مظفرآباد/اسلام آباد — آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر وسابق وزیراعظم سردار عتیق احمدخان نے کہا ہے کہ نومبر 1947میں بھارتی فوج، ڈوگرہ فورسز اور ہندوتوا قوتوں نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کے خطہ جموں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے،1947میں جموں میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے،ان خیالات کااظہارانہوں نے کشمیر ہائوس میں حریت کانفرنس کے زیر اہتمام 6 نومبر یوم شہدائے جموں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں سابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس، حریت کانفرنس کے کنوینئر محمود احمد ساغر،امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر راجہ مشتاق خان،راجہ نجابت خان، حریت رہنما سید یوسف نسیم ایڈووکیٹ اور دیگر کی نے بھی شرکت کی۔
صدرمسلم کانفرنس سردارعتیق احمدخان نے کہا کہ ڈوگرہ فوجیوں، بھارتی فوجیوں اور ہندوتوا قوتوں ،آر ایس ایس اور جن سنگھ کے ذریعہ وحشیانہ قتل عام کا واحد مقصد جموں میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا تھا، ڈوگرہ فوج نے ایک سازش کے تحت نومبر 1947 کے پہلے ہفتے میں جموں میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا، جموں کے مسلمانوں کی بے مثال قربانیاں جوتاریخ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہیں، کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، جموں میں مسلمانوں کا قتل عام نام نہاد بھارتی سیکولرازم کے چہرے پر بدنما دھبہ ہے،1947میں جموں سے شروع ہونے والا قربانیوں کا سلسلہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں آج بھی جاری ہے اور اب تک چار لاکھ سے زائد کشمیری اپنے حق خودارادیت کے مطالبے کے لیے شہید ہو چکے ہیں،اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔










